چندرگپت موریا
| شہنشاہ | |
| - 320–298 قبل مسیح | چندرگپت موریا |
| - 298–272 قبل مسیح | بندوسارا |
| - 268–232 قبل مسیح | اشوک اعظم |
| - 232–224 قبل مسیح | دشرتھ موریہ |
| - 224–215 قبل مسیح قبل مسیح202-215 | سمپراتی شالیشکا موریا |
تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند خاندان کا ناجائز فرد تھا جوکسی بنا پر راجہ کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب و سرحد کے غیر مطمعین قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیاChaknia or Koutlia کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔ جین مت کی روایتیں موریاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ موروں کے رکھوالے تھے۔ بدھ روایتیں کہتی ہیں کہ جب شاکیا کی شاخ موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ہے جہاں موروں کی بہتات تھی۔ وہاں انہوں نے ایک شہر بسایا اور چونکہ شہر کے محلات کی اینٹوں کا رنگ مور کی گردن جیسا تھا۔ اس لیے یہ لوگ مور کہلائے اور شہر کا نام موریا نگر مشہور ہوا۔ نندن گڑھ کے ستون سابچی کے سٹوپوں وغیرہ پر موروں کی تصویر کندہ ہیں۔ پاٹلی پتر میں موریا محل کے باغ مور پالے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل اس نتیجہ پر پہنچے کہ مور موریا خاندان کی قومی علامت تھا۔
بندوسارا
بندوسارا اشوک کا باپ تھا-اور چندرگپت کے بعد موریا خاندان کا بادشاہ تھا
اس کا تاریخ مین بس اتنا زکر ملتا ھے- 298–272 قبل مسیح تک اس کا دور تھابندوسار 298 ق م میں تخت نشین ہوا۔ اس نے تقریباََ پچیس سال حکومت کی۔ بندو سار کے عہد کے حالات معلوم نہیں مگر اس کا لقب امیر گھاتا (دشمن کش) تھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک جنگجو حکمران تھا۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس نے دکن فتح کرلیا تھا۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر درست ہے کہ اشوک نے صرف کلنگا Kalinga کو ہی فتح کیا تھا۔ سلوکس نیکتر سے اس کے دوستانہ تعلقات تھے۔ سلوکس نے اپنے سفیر دیماکوس کو اس کے دربار میں بھیجا تھا۔
تاریخ کا طالب علم یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اگرچہ بندوسار اپنے دور کا ایک عظیم حکمران تھا مگر وہ اپنے عظیم باپ (چندر گپت) اورشان وشوکت والے بیٹے (اشوک ) کے درمیان دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اشوک سلطنت موریہ کا تیسرا شہنشاہ گزرا۔۔ اُس کو اکثر اشوکِ اعظم کہا جاتا ہے کیونکہ اپنے عہد کا سب سے بڑا اور طاقتور راجہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ اشوک نے اپنے ایک بھائی کو چھوڑ کر 99 بھائیوں کو قتل کر دیا۔ جوانی میں اشوک لڑائی کا بڑا مرد تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ کلِنگ (اُڑیسا) کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامِل کر لوں گا۔ چنانچہ تین سال لڑا اور کلنگ کو فتح کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہزاروں لاکھوں کا خون ہوتا ہوا دیکھ کر اشوک کے دل میں ایسا رحم آیا کہ یک بیک طبیعت بالکل بدل گئی کہنے لگا کہ اب میں بدھ کی تعلیم پر چلوں گا اور کبھی کسی سے لڑائی نہ کروں گا۔ 232 قبل مسیح میں اشوک نے وفات پائی۔ اس کے چالیس سال کے بعد موریا خاندان کا بھی خاتمہ ہوا۔ موریا کے بعد دو خاندان مگدھ میں ایسے ہوئے جن کے ناموں کے سوا اور کچھ حالات معلوم نہیں ہوئے ہیں۔ اشوک سے دو سو برس بعد مگدھ کا راج اندھر خاندان کے ہاتھ آیا۔
نہایت رحم دل بادشاہ تھا۔ غریبوں ، یتیموں ، اور بیوہ عورتوں کی پرورش کرتا تھا۔ بہت سے کنویں کھدوائے۔ دھرم شالا ئیں تعمیر کرائیں۔ سڑکوں پر سایہ دار درخت لگوائے اور بے شمار جگہوں پر پانی کا بندوبست کیا۔ مذہبی احکام پتھروں ، ستونوں اور چٹانوں پر کندہ کرائے۔ ان میں سے تقریباً چالیس کتبے اور لاٹھیں دہلی، الہ آباد مردان اور مانسہرا میں دریافت ہوچکی ہیں۔ اسے عمارتیں بنوانے اور نئی بستیاں بسانے کا بہت شوق تھا ۔ پاٹلی پتر میں ایک عالیشان محل بنوایا۔ وادی کشمیر میں سری نگر کی بنیاد رکھی اور نیپال میں بھی ایک شہر دیوتین تعمیر کرایا۔

Comments
Post a Comment